دُعا ہے میں سعادت ایسی پائوں

دُعا ہے میں سعادت ایسی پاؤں

اُصولِ نعت گوئی سیکھ جاؤں

 

روایت سے ذرا ہٹ کر لکھوں پھر

میں نعتیں شاہِ بطحا کو سناؤں

 

مدینے کے چَمن سے گل چُنوں میں

پھر ان کو دِل کے آنگن میں لگاؤں

 

دُرودِ پاک پڑھنا ہے عبادت

اِسی میں زندگی اپنی بِتاؤں

 

اگر جو وقت آئے اُن کی خاطر

یہ دِل کیا جان بھی اپنی لُٹاؤں

 

مدینے سے چلے آئیں محمد ﷺ

کبھی وہ نعت کی محفل سجاؤں

 

قریبِ جان ہیں بے شک رضاؔ جو

کبھی تو آنکھ سے میں دیکھ پاؤں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سرکارؐ کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے
میرے دل میں ہے یادِ محمدؐ میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ
کرم کی چادر مِرے پیمبر
درِ نبی پہ مقدر جگائے جاتے ہیں
انداز کریمی کا نِرالا نہیں گیا
رسولِ محترم ختم‌النبیّین
لبوں پہ جب بھی درود و سلام آتا ہے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
آپ کی یادوں سے جب میری شناسائی ہوئی
کس کا جمال ناز ہے جلوہ نما یہ سو بسو