دُعا ہے میں سعادت ایسی پاؤں

دُعا ہے میں سعادت ایسی پاؤں

اُصولِ نعت گوئی سیکھ جاؤں

 

روایت سے ذرا ہٹ کر لکھوں پھر

میں نعتیں شاہِ بطحا کو سناؤں

 

مدینے کے چَمن سے گل چُنوں میں

پھر ان کو دِل کے آنگن میں لگاؤں

 

دُرودِ پاک پڑھنا ہے عبادت

اِسی میں زندگی اپنی بِتاؤں

 

اگر جو وقت آئے اُن کی خاطر

یہ دِل کیا جان بھی اپنی لُٹاؤں

 

مدینے سے چلے آئیں محمد

کبھی وہ نعت کی محفل سجاؤں

 

قریبِ جان ہیں بے شک رضاؔ جو

کبھی تو آنکھ سے میں دیکھ پاؤں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ