دُنیا میں حق عیاں ہے رِسالت مآب سے

دُنیا میں حق عیاں ہے رِسالت مآب سے

پُر نور ہر جہاں ہے رِسالت مآب سے

 

ہر ایک مُقتدی ہے رِسالت مآب کا

ہر اِک نبی کی شاں ہے رِسالت مآب سے

 

ایندھن بنے گا نارِ جہنم کا بالیقیں

جو، جو بھی بدگُماں ہے رِسالت مآب سے

 

صبحِ اَزَل سے خَلق پہ رحمت کا دوستو!

روشن یہ آسماں ہے رِسالت مآب سے

 

اُن سے وَفا کا فیض ہے دِل میں بھی نور ہے

ہر چہرہ ضوفشاں ہے رِسالت مآب سے

 

رب کی رضاؔ سے بولتے ہیں مصطفی کریم

قُرآن کا بیاں ہے رِسالت مآب سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عطا ہوتے ہیں بحر و بر گدا دل سے اگر مانگے
جو ان کے عشق میں آئینہ فام ہو جائے
شاعری کے ماتھے پر ان کی بات مہکے گی
مدینہ دیکھ کر دل کو بڑی تسکین ہووے ہے
پڑا ہوں سرِ سنگِ در مورے آقا
آقاﷺ کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
جب بھی پہنچا ہوں آقاؐ کے دربار تک
روشن ہیں دو جہاں میں بدرالدجی کے ہاتھ
قمر کو شقِ قمر کا حسین داغ ملا
میرے دل میں ہے یاد محمد ﷺ میرے ہونٹوں پہ ذکر مدینہ