دُور کر دے مرے اعمال کی کالک‘ مالک!

دُور کر دے مرے اعمال کی کالک‘​ مالک

چمک اٹھے دلِ تاریک کی صحنک‘​ مالک

 

سنوں اُس ہادیِؐ برحق کی صدا ،جس کا خیال

دیتا رہتا ہے درِ ذہن پہ دستک ‘​ مالک

 

طلب , آقاؐ نے ہے فرمایا غلام اپنے کو

ملے پیغام کسی روز‘​ اچانک مالک

 

منفرد حمد نگاری کا ہو میرا سب سے

نادرہ کار ، رضا یافتہ مسلک ، مالک

 

رہے آنکھوں میں مواجے کا بہشتی ماحول

وِرد میرا ہو ’رفعنا لک ذکرک‘​ مالک

 

اذن سے تیرے ملے اُنؐ کی شفاعت جس وقت

چاروں جانب سے صدا آئے ’مبارک‘​ مالک

 

حالِ برزخ میں رہے روح مری آسودہ

تیری رحمت سے رہے قبر میں ٹھنڈک، مالک

 

ملے بخشش کی نوید اور ریاضؔ ایسے کی

لوحِ تقدیر بدل جائے یکایک، مالک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دیار ہجر میں شمعیں جلا رہا ہے وہی
میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا
تو رازق ہے میں اس سے باخبر ہوں
خدائے پاک ربُّ العالمیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے
خطا کاروں کا تُو ستار بھی ہے
مجھے بحرِ غم سے اُچھال دے
صدائے کن فکاں پرتو خدا کا
خدا توفیق دے حمد و ثناء کی
تو خبیر ہے تو علیم ہے
خدا سُنتا ہماری التجا ہے