دِلا ہم کو محمد کی حمایت ہے تو کیا غم ہے

دِلا ہم کو محمد کی حمایت ہے تو کیا غم ہے

اگرچہ کل کے دن بھی جو قیامت ہے تو کیا غم ہے

 

ہمیں حضرت کے کلمہ پاک کا ورد و وظیفہ ہے

اگرچہ قبر کی شدت نہایت ہے تو کیا غم ہے

 

رہیں گے مومنو خلد بریں میں عیش و عشرت سے

اگر دنیائے فانی میں مصیبت ہے تو کیا غم ہے

 

عطاؔ خاطر پریشاں ہو نہ محشر کے عذابوں سے

تجھے نعت نبی لکھنے کی عادت ہے تو کیا غم ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سرعرش انھیں جلوہ گر دیکھتے ہیں
دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں یہ کیف کیوں آج آ رہے ہیں
اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول
یرا فن روشن ہوا ان کے مقدس نام سے
مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی مجھ کو عشقِ نبی اِس قدر مل گیا
گھروں کو سجاؤ، دلوں کو سنوارو، نگاہیں جھکاؤ، حضور آرہے ہیں
بڑی امید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہم شہر مدینہ کی ہوا چھوڑ چلے ہیں