دِل میں یادِ نبیؐ کا ڈیرا ہے

دِل میں یادِ نبیؐ کا ڈیرا ہے

نور پھیلا، ہُوا سویرا ہے

 

آپؐ کے ذِکر سے درخشندہ

جان میری ہے، قلب میرا ہے

 

کھُل کے برسے گا اُنؐ کی رحمت کا

ابر چھایا ہوا، گھنیرا ہے

 

جو درُود و سلام پڑھتے ہیں

اُن پہ فضلِ خُدا ودھیرا ہے

 

سرنگوں ہو کبھی، خُدا نہ کرے

دینِ اِسلام کا پھریرا ہے

 

میرا گھر کیوں نہ رشکِ جنت ہو

آپؐ کا میرے گھر میں پھیرا ہے

 

ہاں ظفرؔ! دِل خُدا کی بستی ہے

جس میں سرکارؐ کا بسیرا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حشر میں مجھ کو بس اتنا آسرا درکار ہے
شکستہ حال اپنے دل کو سمجھانے کہاں جاتے
رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے
طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان
حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے
قلم خوشبو کا ہو اور اس سے دل پر روشنی لکھوں
وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

اشتہارات