اردوئے معلیٰ

دِل میں یادِ نبی کا ڈیرا ہے

نور پھیلا، ہُوا سویرا ہے

 

آپ کے ذِکر سے درخشندہ

جان میری ہے، قلب میرا ہے

 

کھُل کے برسے گا اُن کی رحمت کا

ابر چھایا ہوا، گھنیرا ہے

 

جو درُود و سلام پڑھتے ہیں

اُن پہ فضلِ خُدا ودھیرا ہے

 

سرنگوں ہو کبھی، خُدا نہ کرے

دینِ اِسلام کا پھریرا ہے

 

میرا گھر کیوں نہ رشکِ جنت ہو

آپ کا میرے گھر میں پھیرا ہے

 

ہاں ظفرؔ! دِل خُدا کی بستی ہے

جس میں سرکار کا بسیرا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات