دھواں قلب و نظر میں چشم گوہر بار سے پہلے

دھواں قلب و نظر میں چشم گوہر بار سے پہلے

اندھیرا ہے گلی میں ، رونق بازار سے پہلے

 

سبھی چپ ہیں تماشائے عروج آثار سے پہلے

یہ کیسی ابتلا ہے، خندقیں ہیں دار سے پہلے

 

عراق ایران کی یلغار ہے امن و اخوت پر

الہی روک دے تلوار کو تلوار سے پہلے

 

گلوں میں چاند میں سورج میں کلیوں میں ستاروں میں

تجھے میں دیکھ لیتا ہوں ترے دیدار سے پہلے

 

ضیاء میری جبیں کے زاوئیے ناپے گئے لیکن

مرے سجدے کہاں ملتے درِ دلدار سے پہلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ