دیارِ خلد میں جاہ و حشم حسین کا ہے

دیارِ خلد میں جاہ و حشم حسین کا ہے

دیارِ خلد کا ہر پیچ و خم حسین کا ہے

 

خوشی یہ ہے کہ غلامانِ آل سے ہیں ہم

حریمِ قلب میں حالانکہ غم حسین کا ہے

 

بھلائے کیسے کوئی داستانِ کرب و بلا

لہو شفق پہ ابھی تک رقم حسین کا ہے

 

وہ میرے قلب کو دیتا ہے راحتوں کے گہر

جو دل پہ ثبت ہے نقشِ قدم حسین کا ہے

 

عدو کی نام وری خاک ہو گئی لیکن

جو سر بلند رہا ہے علم حسین کا ہے

 

چھڑایا نارِ جہنم سے حر کو لمحوں میں

فدائے آلِ نبی پر کرم حسین کا ہے

 

حضورِ پاک، علی، فاطمہ، حسین، حسن

گھرانہ سارا بڑا محترم حسین کا ہے

 

یزیدیت کے دیے بجھ بجھا گئے کب کے

چراغِ عشق مگر تازہ دم حسین کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ