دیارِ نور کا ہر بام و در مطاف کیا

دیارِ نور کا ہر بام و در مطاف کیا

قدم قدم پہ مرے عشق نے طواف کیا

 

جبینِ خامہ نے سجدے نثار کرتے ہوئے

حروفِ نعت کو قرطاس کا غلاف کیا

 

ورودِ یادِ شہِ دو جہان سے پہلے

مشامِ جان میں خوشبو نے اعتکاف کیا

 

پھرایا شمس کو واپس برائے مولا علی

قمر کو ایک اشارے سے شین قاف کیا

 

کرم ہے ان کا ورائے حدودِ وہم و گماں

مرے کریم نے ہِندہ کو بھی معاف کیا

 

بسایا آنکھ میں کوئے رسول کا منظر

نظر نے باقی مناظر سے انحراف کیا

 

شفیعِ حشر کی چوکھٹ پہ قلبِ نادم نے

نظر جھکائی گناہوں کا اعتراف کیا

 

پکارا زرد رتوں میں حضور! اُنظُرنا

صبا نے کشتِ مقدر پہ انعطاف کیا

 

غزل کی کرتے تھے فرمائشیں عزیز مگر

مرے شعور نے اشفاق اختلاف کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات