اردوئے معلیٰ

دیارِ نور کا ہر بام و در مطاف کیا

قدم قدم پہ مرے عشق نے طواف کیا

 

جبینِ خامہ نے سجدے نثار کرتے ہوئے

حروفِ نعت کو قرطاس کا غلاف کیا

 

ورودِ یادِ شہِ دو جہان سے پہلے

مشامِ جان میں خوشبو نے اعتکاف کیا

 

پھرایا شمس کو واپس برائے مولا علی

قمر کو ایک اشارے سے شین قاف کیا

 

کرم ہے ان کا ورائے حدودِ وہم و گماں

مرے کریم نے ہِندہ کو بھی معاف کیا

 

بسایا آنکھ میں کوئے رسول کا منظر

نظر نے باقی مناظر سے انحراف کیا

 

شفیعِ حشر کی چوکھٹ پہ قلبِ نادم نے

نظر جھکائی گناہوں کا اعتراف کیا

 

پکارا زرد رتوں میں حضور! اُنظُرنا

صبا نے کشتِ مقدر پہ انعطاف کیا

 

غزل کی کرتے تھے فرمائشیں عزیز مگر

مرے شعور نے اشفاق اختلاف کیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات