اردوئے معلیٰ

دیارِ نور کو دل میں بسائے بیٹھا ہوں

 

دیارِ نور کو دل میں بسائے بیٹھا ہوں

میں اپنا سینہ مدینہ بنائے بیٹھا ہوں

 

حصارِ کیف میں محسوس ہو رہا ہے وجود

درودِ عشق لبوں پر سجائے بیٹھا ہوں

 

عطا ہو جلوۂ زیبا قضا کے وقت مجھے

ازل سے دل میں یہ حسرت جگائے بیٹھا ہوں

 

اسی لیے ہوں میں ہر ایک فکر سے آزاد

حصار نعت نبی کا لگائے بیٹھا ہوں

 

مہک اٹھیں گے در و بامِ کوچۂ ہستی

میں ان کی راہ میں پلکیں بچھائے بیٹھا ہوں

 

میں دل کی آنکھوں سے تکتا ہوں گنبدِ خضری

میانِ صحنِ حرم سر جھکائے بیٹھا ہوں

 

نزولِ رحمتِ باری ہے قلبِ منظرؔ پر

کہ شمعِ عشقِ محمد جلائے بیٹھا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ