اردوئے معلیٰ

دیارِ یار گیا ، انتظارِ یار گیا

دیارِ یار گیا ، انتظارِ یار گیا

گیا وہ یار گیا ، مدتوں کا پیار گیا

 

وہ صبحِ عشق کی شبنم وہ شام کا شعلہ

وہ رشکِ سرو و سمن ، رونقِ بہار گیا

 

وہ جس کے حسن میں شوخی تھی موجِ دریا کی

مچلتی ناچتی لہروں کے ہم کنار گیا

 

وہ میرا دوست ، مرا آشنا مرا محبوب

وہ جس کے ساتھ محبت کا کاروبار گیا

 

وہ تند خو ، وہ مرا مہرباں ، ستم آرا

مرا قرار ، مرا دشمنِ قرار گیا

 

بس ایک بار وہ آیا اور اُس پہ یہ عالم

کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

 

تڑپ رہی ہے فضا میں صدائے آوارہ

ابھی ابھی کوئی منصور سوئے دار گیا

 

اب اُن سے تذکرۂ ہجرِ یار کیا کیجے

نہ جن کا یار گیا ہے ، نہ جن کا پیار گیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ