دیار عشق ہو سجدوں میں صبح و شام کروں

دیار عشق ہو سجدوں میں صبح و شام کروں

زمانہ کچھ بھی کرے بس یہی میں کام کروں

 

یہ مختصر سے مہ و سال کی بساط ہے کیا

ہزار جان خدا دے تمہارے نام کروں

 

رکھی ہو قبر میں تھوڑی سی خاک کوئے رسول

نجات کے لیے کچھ ایسا انتظام کروں

 

کھلے جو نامۂ اعمال بس ہو نام ترا

تمام عمر میں اتنا ہی کوئی کام کروں

 

میں اس کی جوتیاں سر پر رکھوں جو تیرا ہو

ترے اک ایک گدا کا میں احترام کروں

 

عزیز سارے رسولوں کا احترام بجا

اصولِ عشق ہے پہلے انھیں سلام کروں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ