اردوئے معلیٰ

Search

دیدار کی چاہت ہے در پر ترے لے آئی

ہے چشمِ طلب آقا درشن کی تمنائی

 

جائے گا کہاں چھوڑ کے دہلیز تری آقا

قسمت تری دہلیز پہ اک بار جسے لائی

 

کیوں رشک نہ ہو اس کو قسمت پہ اسے اپنی

ہو نعت نبی لب پر محفل ہو یا تنہائی

 

قرباں دل و جان سے ہے آقا پہ جو انسان

نادان سمجھتے ہیں کہ سودائی ہے سودائی

 

جھولی بھریں اس در سے شاہ و گدا آقا

دل وارثیؔ تڑپے ہے ہو شرف جبیں سائی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ