اردوئے معلیٰ

Search

دیدۂ شوق ہمیشہ سے ہی نم رکھا ہے

یادِ طیبہ میں دعاؤں کو بہم رکھا ہے

 

وہ جگہ رشک گہِ خلد و سماوات ہوئی

جس جگہ آپ نے اک بار قدم رکھا ہے

 

مضطرب قلب عجب لطف سے سرشار ہوا

یوں لگا دل پہ مرے دستِ کرم رکھا ہے

 

سبھی الفاظ ہوئے زینتِ قرطاسِ دعا

جب سے مدحت میں تری وقف قلم رکھا ہے

 

فاصلہ حجرۂ نوری سے جو ہے منبر تک

تا ابد رب نے اسے رشکِ ارم رکھا ہے

 

آج ہو جائے گی طیبہ کی زیارت مجھ کو

بخت میں آج مرے اذنِ حرم رکھا ہے

 

لمحہ لمحہ ہو مری زیست کا مصروفِ ثنا

اُس دعا کو سرِ فہرست رقم رکھا ہے

 

بہ خدا فکر یہ اجداد سے پائی میں نے

خامہ و نطق بس اک میم میں ضم رکھا ہے

 

میں کہ بے نام سا بے دام سا منظر ہوں مگر

مدحتِ شاہ نے بس میرا بھرم رکھا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ