دین کی شان ہیں عثمان غنی

دین کی شان ہیں عثمان غنی

حق کی پہچان ہیں عثمان غنی

 

بول اٹھی مملکتِ جود وسخا

میرے سلطان ہیں عثمان غنی

 

تذکرہ حلم و حیا کا ہے چھڑا

اور عنوان ہیں عثمان غنی

 

رونقیں گھر کی پتہ دیتی ہیں

آج مہمان ہیں عثمان غنی

 

نائب حضرت صدیق و عمر

علی الاعلان ہیں عثمان غنی

 

رنج و آلام ہیں گھبرائے ہوئے

کب پریشان ہیں عثمان غنی؟

 

مصطفی کے ملے دو نور انہیں

کتنے ذیشان ہیں عثمان غنی

 

آپ کی خاک قدم کی طالب

میری چشمان ہیں عثمان غنی

 

کاتب وحی بھی ہیں جامع بھی

شانِ قرآن ہیں عثمان غنی

 

ہر مسلماں کا عقیدہ ہے یہی

جان ایمان ہیں عثمان غنی

 

گوہرِ فکر صدف کے سارے

تم پہ قربان ہیں عثمان غنی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ