دیوداسی اور پجاری

لو ناچ یہ دیکھو، ناچ، پوَتر ناچ اک دیو داسی کا
دھیرے دھیرے دور ہوا ہے سایہ میرے دل سے دل
کی اداسی کا
تول تول کر پاؤں ہے رکھتی، ہلکے ہلکے ایسے، میرا من
چاہے
بن کر چندا کا اجیالا اس دھرتی پر بچھ جائے
میں پتھریلے کھمبے کے پیچھے چھُپ کر اس کو دیکھوں
چپکے چپکے حیرانی میں یہ پوچھوں
جیسے دیوی کی مورت ہی جی کر ناچ رہی ہو ناچ
یا بھولے سے پریوں کے جھرمٹ کی رانی
دھرتی پہ آئی ہو
اور پانی کے لہروں ایسے ہلتی جائے، لہرائے
یا جنگل کی چنچل ہرنی پتّوں پر پھسلی جائے
ایک اندھیرے بن کر ناگن پھنکارے اور بل کھائے
جیسے میری للچائی نظریں پچکاریں اس کا انگ
دیوداسی دھرتی سے چھوکر ویسے دکھلائے رنگ
کالی کالی چمکتی آنکھیں بجلی جیسا ناچ کریں
اور ہیرے موتی کے گہنے اجیالے میں یوں چمکیں
جیسے اونچے نیلے منڈل میں چاند اور تارے ناچیں
باہوں میں پھنس پھنس کر آئی ہوئی انگیا کی سلوٹ کو
جب میں دیکھوں دل میں زور کی دھڑکن ہو
اور تیزی سے سانس چلے
لمبے، ڈھیلے ڈھالے دامن میں لہروں کے بہنے سے
اور گھومر کے پڑنے سے
ذہن کی ہر اک رگ تھرکے
آہوں کا نغمہ نکلے
آگے آنا، پیچھے جانا، تھرک تھرک کر رہ جانا
سَنبھل سَنبھل کر گرتی جائے، گر گر کر سنبھالے لے
ڈرنا، جھجکنا، پھر شوخی سے، بے باکی سے بڑھ آنا
ڈگمگ ڈولے دھرم کی ناؤ ،ڈگمگ میرا دھرم کرے
ناچ ناچ کر جب تھک جائے، تھک کر ہوجائے ہلکان
لے جائے یکسوئی میری، چین مرا اور میرا گیان
اور پھر ایسا موہن منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجائے
جب پتھریلے، اونچے کھمبوں کے سائے اس سے لپٹیں
جیسے گھٹائیں چمکتی بجلی کو اپنے دامن میں لیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

امداد
چُپکے سے اُترمجھ میں
 کرم کے سکے
ن‘‘(نون)’’
دُعا
کلر بلائنڈ Colour Blind
یہ کیسے لوگ ہیں
محور
’’جگاوا‘‘
کاغذی مکاں