اردوئے معلیٰ

دیکھتے جلوہِ دیدار کو آتے جاتے

گلِ نظارہ کو آنکھوں سے لگاتے جاتے

 

ہر سحر روئے مبارک کی زیارت کرتے

داغِ حرماں دلِ محزوں سے مٹاتے جاتے

 

پائے اقدس سے اٹھاتے نہ کبھی آنکھوں کو

روکنے والے اگر لاکھ ہٹاتے جاتے

 

دشتِ اسرا میں ترے ناقہ کے پیچھے پیچھے

دھجیاں جیب و گریباں کی اڑاتے جاتے

 

سرِ شوریدہ کو گیسو پہ تصدق کرکے

دلِ دیوانہ کو زنجیر پنہاتے جاتے

 

قدمِ پاک کی گر خاک بھی ہاتھ آجاتی

چشمِ مشتاق میں بھر بھر کے لگاتے جاتے

 

خواب میں دولتِ دیدار سے ملتے وہ اگر

بختِ خوابیدہ کو ٹھوکر سے جگاتے جاتے

 

دستِ صیادِ سے جو چھوٹے ہزاروں کی طرح

چمنِ کوچہِ دلبر ہی میں آتے جاتے

 

کافیِ کشتہِ دیدار کو زندہ کرتے

لبِ اعجاز اگر آپ ہلاتے جاتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات