اردوئے معلیٰ

دیکھی ہے جب سے ایک نگینے کی آب و تاب

بھاتی نہیں کسی بھی خزینے کی آب و تاب

 

اک نام نے کیا مرے ہونٹوں کو عطر بیز

اک ذکر سے ہوئی مرے سینے کی آب و تاب

 

سینے میں دل ہے ، دل میں ہے پوشیدہ اُن کی یاد

دیکھے تو کوئی میرے دفینے کی آب و تاب

 

اس آنکھ کے لیے کسی جنت میں کیا کشش

جس آنکھ میں بسی ہو مدینے کی آب و تاب

 

تقویمِ ماہ و سال میں جتنا بھی نور ہے

وہ ہے مرے نبی کے مہینے کی آب و تاب

 

جب بادباں کھلا مرے آقا کے نام کا

اس وقت دیدنی تھی سفینے کی آب و تاب

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات