اردوئے معلیٰ

Search

دیکھ لوں جا کر مدینہ پاک کو

چین آئے دیدۂ نمناک کو

 

سو رہا ہوں اس لیے بھی چین سے

خاک نے سینے لگایا خاک کو

 

پھر لحد میں ہوگیا ان کا کرم

تک لیا ہے صاحبِ لولاک کو

 

تیری نسبت سے ملا عزّ و شرف

میرے آقا! ذرۂ خاشاک کو

 

گنبدِ خضراء جو تیرے پاس ہے

رشک ہے تجھ پر زمیں! افلاک کو

 

خواب میں جلوہ دکھانے آئیں گے

حرزِ جاں کر لو درودِ پاک کو

 

لا مکاں میں جس جگہ پہنچے حضور

کب رسائی ہے وہاں ادراک کو

 

ہر نفس قربان ہے ان پر جلیل

ہو خبر یہ دشمنِ چالاک کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ