دیے ساقی نے مجھ کو چند جام آہستہ آہستہ

دیے ساقی نے مجھ کو چند جام آہستہ آہستہ

ہوا یہ دور مے آخر تمام آہستہ آہستہ

 

کرے گر کوئی یوسف ہو کے زنداں میں شکیبائی

عزیز مصر ہو اس کا غلام آہستہ آہستہ

 

ادب سے سر جھکا کر قاصد اس کے روبرو جانا

نہایت شوق سے کہنا پیام آہستہ آہستہ

 

ترقی ہوتی جاتی ہے اگر واقف نہ ہو سالک

چلے منزل تو پاتا ہے مقام آہستہ آہستہ

 

عزیزؔ خستہ جاں سے کچھ علاقہ ان کو ہے بے شک

لیا کرتے ہیں زیر لب یہ نام آہستہ آہستہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ