اردوئے معلیٰ

دے تبسم کی خیرات ماحول کو، ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی

ایک شیریں جھلک ، ایک نوریں ڈلک، تلخ و تاریک ہے زندگی یا نبی

 

اے نوید مسیحا! تری قوم کا حال عیسیٰ کی بھیڑوں سے ابتر ہوا

اس کے کمزور اور بے ہنر ہاتھ سے چھین لی چرخ نے برتری یا نبی

 

کام ہم نے رکھا صرف اذکار سے، تیری تعلیم اپنائی اغیار نے

حشر میں منہ دِکھائیں گے کیسے تجھے ، ہم سے ناکردہ کار امّتی یا نبی

 

دشمنِ جاں ہوا میرا اپنا لہو ، میرے اندر عدو ، میرے باہر عدو

ماجرائے تحیّر ہے پُر سیدنی ، صورتِ حال ہے دیدنی یا نبی

 

روح ویران ہے ، آنکھ حیران ہے ، ایک بحران تھا ، ایک بحران ہے

گلشنوں ،شہروں ،قریوں پہ ہے پرفشاں ایک گھمبیر افسردگی یا نبی

 

سچ مِرے دَور میں جرم ہے، عیب ہے، جھوٹ فنِّ عظیم آج لاریب ہے

ایک اعزاز ہے جہل و بے رہ روی ،ایک آزار ہے آگہی یا نبی

 

راز داں اس جہاں میں بناؤں کسے، روح کے زخم جاکر دِکھاؤں کسے

غیر کے سامنے کیوں تماشا بنوں، کیوں کروں دوستوں کو دُکھی یا نبی

 

زیست کے تپتے صحرا پہ شاہِ عرب! تیرے اکرام کا ابر برسے گا کب ؟

کب ہری ہو گی شاخِ تمنا مری،کب مٹے گی مری تشنگی یا نبی

 

یانبی ! اب تو آشوبِ حالات نے تیری یادوں کے چہرے بھی دھندلا دئیے

دیکھ لے ،تیرے تائبؔ  کی نغمہ گری، بنتی جاتی ہے نوحہ گری یا نبی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات