اردوئے معلیٰ

Search

دے نہیں سکتا جنوں یوں تو کوئی تاویل تک

پر ترا ہی ذکر ہے عنوان سے تفصیل تک

 

گر چکا منظر پہ پردہ ، گل ہوئی ہے روشنی

کھیل آخر کار پہنچا ، پایہِ تکمیل تک

 

تم ہوئے عریاں تو جیسے جم گئی شمعوں کی لو

دم بخود جیسے کھڑی تھی دودھیا قندیل تک

 

ہاتھ چاہے شل ہوئے جاتے ہیں لیکن آندھیاں

کر نہ پائیں بادباں کا زاویہ تبدیل تک

 

جا ، کہ تیری منتظر ہیں ارتقاء کی منزلیں

تھا مرا کردار قصے میں تری تشکیل تک

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ