اردوئے معلیٰ

ذرا جو ہوتی کہیں خواہشِ نمو مجھ میں

تو سبزہ پھوٹنے لگنا تھا چار سو مجھ میں

 

میں جس کو ذات سے باہر تلاش کرتا ہوں

بھٹکتی پھر رہی ہے اب بھی کوبکو مجھ میں

 

میں جب بھی درد کی شدت سے ٹوٹ جاتا ہوں

تمھاری شکل ابھرتی ہے ہوبہو مجھ میں

 

ترے شکستہ ارادوں کو میں سنبھالوں گا

معاملہ کوئی ایسا اٹھا لے تو مجھ میں

 

میں پانیوں میں کہیں لاش بن کے بہتا ہوں

اور ایک خاک کا ریلہ ہے جوبجو مجھ میں

 

چھڑے گی جنگ تو ماروں گا سب سے پہلے اُسے

چھپا ہے آخری جو ایک صلح جو مجھ میں

 

رگوں سے خاک بہانی پڑے گی اب شاید

کہ ایک قطرہ بھی باقی نہیں لہو مجھ میں

 

ہزار فتنے اٹھانے لگے ہیں سر قیصر

نماز پڑھنے لگا کوئی بے وضو مجھ میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات