ذرا سا بچ کے چلو کاٹتا ہے، کُتّا ہے

ذرا سا بچ کے چلو کاٹتا ہے، کُتّا ہے

اور عام سا بھی نہیں، باولا ہے، کُتّا ہے

 

یہ اپنے جسم کو پہلے بھنبھوڑ لیتا ہے

پھر اپنے زخم کو ہی چاٹتا ہے کُتّا ہے

 

جو مسجدوں سے نمازی نکل کے آتے ہیں

یہ ان پہ بار بار بھونکتا ہے، کُتّا ہے

 

کبھی نہ سیدھی ہوئی دُم، تو یہ کہاں ہو گا؟

ہمیں تو اچھی طرح سے پتہ ہے، کُتّا ہے

 

ہمارے سامنے دشمن کھڑا ہے صفدر صف

ہے روپ بھیڑ کا، پر بھیڑیا ہے ، کُتّا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سانولی
بارش بھری رات
سفرنامہٴ حج
وضاحت
وطنِ عزیز میں حکومت کی تبدیلی پر
تصویر تیری یوں ہی رہے کاش جیب میں
میں غالبوں جیسا کبھی میروں کی طرح تھا
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
کر کے مولا سے دعائیں ایک گڑیا لی گئی
‏چھوٹے بچوں کی طرح پَل میں بِگڑ بیٹھتے ہیں

اشتہارات