اردوئے معلیٰ

Search

ذرا سی دیر ٹھہر کر سوال کرتے ہیں

سفر سے آئے ہوؤں کا خیال کرتے ہیں

 

میں جانتا ہوں مجھے مجھ سے مانگنے والے

پرائی چیز کا جو لوگ حال کرتے ہیں

 

وہ دستیاب ہمیں اس لئے نہیں ہوتا

ہم استفادہ نہیں دیکھ بھال کرتے ہیں

 

زمانہ ہو گیا حالانکہ دشت چھوڑے ہوئے

ہمارے تذکرے اب بھی غزال کرتے ہیں

 

وہ عشق جس کے گنے جا چکے ہیں دن اظہرؔ

ہم اس چراغ کی سانسیں بحال کرتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ