ذرا ہیں لوگ مُختلف، ذرا سی ہے سِپاہ اور

ذرا ہیں لوگ مُختلف، ذرا سی ہے سِپاہ اور

ہے اِس کا نام "​شہرِدِل”​، ہے دِل کا بادشاہ اور

 

ہے دِل کا اور کربلا، ہے مُختلف فُرات بھی

کہ اِس کا ہے حُسین اور، ہے اِس کا ذُوالجِناح اور

 

جو میں نے جِسم و رُوح سب ہی پیش کر دئے اُسے

تو عاشِقی نے یہ کہا کہ "​ایک دو گواہ اور”​

 

وہ ہاتھ جوڑ جوڑ کے یہ کہہ رہی تھی "​بھاگ چل”​

اور ایک مَیں بھی اَڑ گیا کہ "​چند ایک ماہ اور”​

 

اے زندگی! تِرا مِرا نِباہ اُس نہج پہ ہے

کہ اِک طرف طلاق ہے، تو اِک طرف بِیاہ اور

 

یوں روز روز خواب میں مِلنا بھی اِک گُناہ تھا

سو ہم نے خواب خواب میں ہی کر لیا نِکاح اور

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ