ذرّہ ذرّہ مصطفی ﷺ سے چاہتا ہے روشنی

 

ذرّہ ذرّہ مصطفی ﷺ سے چاہتا ہے روشنی

جانتے سب ہیں کہ بس ان کی عطا ہے روشنی

 

ان ﷺ کی تنویرِ رسالت نے بتایا خلق کو

دینِ حق کے ساتھ پیمانِ وفا ہے روشنی

 

نورِ احمد ﷺ نے یہ قلب و ذہن پر روشن کیا

کیسے ملتی ہے ہدایت اور کیا ہے روشنی

 

مہر و ماہ و انجم و برق و شرار و کہکشاں

ہیں تو سب روشن مگر دل کی جِلا ہے روشنی

 

اُن ﷺ کے طرزِ زندگی میں نورِ حق پوشیدہ ہے

اُن ﷺ کے اندازِ تکلم کی ضیا ہے روشنی!

 

شہرِ علم و آگہی ﷺ نے فاش یہ نکتہ کیا

تیرگی بیماریِ دل ہے، دوا ہے روشنی

 

اُن ﷺ کا دستِ مہرباں وجہِ سکونِ قلب ہے

اُن ﷺ کے ایمائے ثناء کا سلسلہ ہے روشنی

 

میں عزیزؔ احسن مدیح کَے و جَم کیسے کروں؟

مجھ کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہی بخشتا ہے روشنی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
جلوہ گر مشعل سرمدی ہوگئی
ختم ہونے ہی کو ہے در بدری کا موسم
کھویا کھویا ہے دل، ہونٹ چپ، آنکھ نم، ہیں مواجہ پہ ہم
جہاں میں وہ ازل کے حُسن کا آئینہ دار آیا
دل کے نگر میں رہتے ہیں میرے خدا اور میں
کل بھی تھا ہوں آج بھی ہوں گا بھی آئندہ فقیر
جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
نہ مایوس ہو میرے دُکھ درد والے