اردوئے معلیٰ

Search

ذرّے بھی چمک اٹھتے ہیں طیبہ کی زمیں پر

بٹتے ہیں گُہر سیّدِ والا کی زمیں پر

 

یہ سوچ کے طیبہ کی زمیں پر نہیں چلتا

شاید کہ میں ہوں عرشِ معلی کی زمیں پر

 

شاہیں مِری پرواز کی رفعت پہ ہے نازاں

مانند کبوتر ہوں میں بطحا کی زمیں پر

 

بڑھنے لگے سرکار ’’اَوْ اَدْنٰی‘‘ کی فضا میں

جبریلؑ رہے دیکھتے سدرہ کی زمیں پر

 

احسان کِیا نوعِ بشر پر یہ خدا نے

بھیجا ہے شہِ دین کو دنیا کی زمیں پر

 

ہوتی ہے پھر انوار کی برسات کہ جب وہ

آتے ہیں مِرے قلب تپیدہ کی زمیں پر

 

اعجاز نہیں اُن کا تو پھر کیا ہے یہ ازہرؔ

نعت اُتری دلِ رنج رسیدہ کی زمیں پر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ