اردوئے معلیٰ

ذکرِ نبی سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے

وہ قلبِ مطمئن ہے ہر گھڑی مسرُور ہوتا ہے

 

مرے سرکار جب تک میرے دل میں نہ قدم رکھیں

یہ دل مغموم ہوتا ہے، یہ دل رنجُور ہوتا ہے

 

وہ ہر حالت میں ہیں سرکار کو ہی رُوبرو رکھتے

نرالا آپ کے عشاق کا دستور ہوتا ہے

 

حبیبِ کبریا جلوہ فگن عشاق کے دل میں

خدا خود سینۂ عشاق میں مستُور ہوتا ہے

 

میں ہر پل آپ کے عشاق کے نزدیک رہتا ہوں

میں اُس سے دُور رہتا ہوں جو اُن سے دُور ہوتا ہے

 

وہی سرکار فرمائیں جو ہو حکمِ خداوندی

وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے

 

جو مجھ سے رُو سیہ ہر دم درُود و نعت پڑھتے ہیں

سیہ رُو اُن کا بھی اک دن ظفرؔ پُرنور ہوتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات