ذکرِ پاکِ سرورِ دیں بر لبِ اظہار ہے

 

ذکرِ پاکِ سرورِ دیں بر لبِ اظہار ہے

دل پہ طاری ہے سکینت روح پُر انوار ہے

 

نعت گوئی کے لیے عشقِ نبی درکار ہے

قافیہ پیمائی ورنہ شغلِ بے کردار ہے

 

خامۂ پرکارِ فطرت کا وہی شہکار ہے

حسنِ آں سیمیں بدن دامن کشِ انظار ہے

 

فی سبیل اللہ دن بھر کا تھکا ماندہ ہے وہ

شب کو مصروفِ عبادت رہ کے شب بیدار ہے

 

وہ حبیبِ کبریا ہے وہ ہے مخدومِ جہاں

روئے گیتی پر خوشا سب سے بڑی سرکار ہے

 

خوبصورت خوب سیرت، پاک باطن، پاک تن

خوش جبین و خوش ادا ہے اور خوش گفتار ہے

 

قبلۂ عالم ہے کعبہ، قبلۂ کعبہ ہے وہ

اللہ اللہ سوچئے کیا عظمتِ سرکار ہے

 

اپنی امّت کی ہدایت کے لیے کوشاں ہے وہ

درس ہے توحید کا، تبشیر ہے، انذار ہے

 

عشقِ اصحابِؓ نبی ہے دیدنی صد مرحبا

اک اشارے پر ہر اک مر مٹنے کو تیار ہے

 

زانوئے صدیقِ اکبرؓ پر سرِ شاہِ ہدیٰ

سب سے اونچا سر اسی کا ہے وہ یارِ غار ہے

 

حاصلِ عمرِ دو روزہ گر نہ ہو عشقِ نبی

زندگی مع کُل متاعِ زندگی بیکار ہے

 

پھر گیا جس کی طرف سے وہ پھنسا گرداب میں

جس کا حامی ہو گیا وہ اس کا بیڑا پار ہے

 

مان کر اس کو نبی پھر جو نہ مانیں آخری

کافر و زندیق ہیں ان پر خدا کی مار ہے

 

خون کے پیاسوں کو اپنے بخش دیتا ہے یونہی

رحمتُ الّلعٰلمیں کا دیدنی کردار ہے

 

بے نیازِ مال و زر بیگانۂ دنیائے دوں

گنجِ قاروں پر بھی اس کا پائے استحقار ہے

 

دل طوافِ شہرِ طیبہ میں ہے اب تک منہمک

میں تو ہوں اک بار کا، دل دائمی زوّار ہے

 

روزِ محشر کیا پئیں گے اے نظرؔ بتلائیے

جامِ کوثر بھی وہاں ہے اور مئے دیدار ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ