ذہن و دل ہوتے ہیں روشن آپ ﷺ ہی کے نام سے

 

ذہن و دل ہوتے ہیں روشن آپ ﷺ ہی کے نام سے

پھیلتی جاتی ہیں کرنیں آپ ﷺ کے پیغام سے

 

اُسوۂ ختم الرسل ﷺ سے عشق ہو تو کیوں نہ ہو

ایک صبحِ نو ہویدا زندگی کی شام سے

 

مندمل ہوتے ہیں دل کے زخم اُن ﷺ کی یاد میں

روح بھی تسکین پاتی ہے اُنہی ﷺ کے نام سے

 

ہے دریچے ذہن و دل کے اس طرف کھلنے کی دیر

روشنی اب صرف پھیلے گی اُنہی ﷺ کے بام سے

 

بس جہانِ آب و گِل میں اُن ﷺ کا دامن تھام لو

ہر زماں پھر زندگی کرتے رہو آرام سے

 

اُن ﷺ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے گزرے حیات

ہمکنار اس طرح سے ہو زندگی انجام سے

 

معتبر ٹھہرے مری ملت زمانے میں عزیزؔ

پھر مکمل جوڑ لے رشتہ اگر اسلام سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گذشتہ رات یادِ شاہ دل میں سو بسو رہی
چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی
سجا ہے لالہ زار آج نعت کا
مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
ملی ہے محبت حضورؐ آپؐ کی
نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے
درِ مصطفیٰؐ کا گدا ہوں میں، درِ مصطفیٰؐ پہ صدا کروں
کیا شان شہنشاہ کونین ﷺ نے پائی ہے
مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ