راتوں کو دنوں میں ڈھالتا ہے کوئی

راتوں کو دنوں میں ڈھالتا ہے کوئی

ظلمت سے مجھے نکالتا ہے کوئی

گرتا ہوں میں بار بار لیکن خالد

ہر بار مجھے سنبھالتا ہے کوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ