رات بھر چاندنی کے باغ سے میں

رات بھر چاندنی کے باغ سے میں

تیری آنکهوں کے پھول چنتا ہوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرتا مَیں کیا گُریز ترے خدّوخال سے
جا محبّت کی نئی قِسم مِرے سامنے لا
یوں تو شہر میں دس مے خانے ہیں لیکن
نظر چُرا کے کہا بس یہی مقدر تھا
ہجر جاناں میں جی سے جانا ہے
چپ چپ رہنا آہیں بھرنا کچھ نہ کہنا لوگوں سے
آپ دستار اٹھاؤ تو کوئی فیصلہ ہو
تو آج سکندر ہے تو کیوں اتنا تفاخر
گریہ بساط بھر ، یہاں لازم ہے ، فرض ہے
نہ تھے تیرے مرنے کےدن یہ نعیم

اشتہارات