اردوئے معلیٰ

رات ڈھلتی رہی ، بات ہوتی رہی

 

رات ڈھلتی رہی ، بات ہوتی رہی

شعر کہتے رہے ، نعت ہوتی رہی

 

سیرتِ مصطفیٰ پر جمی تھی نگہ

اور تخیل کی بہتات ہوتی رہی

 

تھے لبوں پر درودوں کے وہ زمزمے

نکہتِ گُل کی برسات ہوتی رہی

 

عرش پر بزمِ میلاد رکھی گئی

معتبر آپ کی ذات ہوتی رہی

 

جب سے اوڑھا اسیری کے اس شوق کو

زندگی مثلِ میقات ہوتی رہی

 

مرُتضیٰؔ ان کے قدموں میں بیٹھے رہے

صبح سے شام ، پھر رات ہوتی رہی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ