رات ڈھلتی رہی ، بات ہوتی رہی

 

رات ڈھلتی رہی ، بات ہوتی رہی

شعر کہتے رہے ، نعت ہوتی رہی

 

سیرتِ مصطفیٰ پر جمی تھی نگہ

اور تخیل کی بہتات ہوتی رہی

 

تھے لبوں پر درودوں کے وہ زمزمے

نکہتِ گُل کی برسات ہوتی رہی

 

عرش پر بزمِ میلاد رکھی گئی

معتبر آپ کی ذات ہوتی رہی

 

جب سے اوڑھا اسیری کے اس شوق کو

زندگی مثلِ میقات ہوتی رہی

 

مرُتضیٰؔ انؐ کے قدموں میں بیٹھے رہے

صبح سے شام ، پھر رات ہوتی رہی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
خلد مری صرف اس کی تمنا صلی اللہ علیہ والہ وسلم
حصار نور میں ہوں گلشن طیبہ میں رہتا ہوں
اپنے بھاگ جگانے والے کیسے ہوں گے
اس خالق کونین کی مرضی بھی ادھر ہے
نعتِ سرکار مرے دور کی پہچان بھی ہے
ظلمت کدے میں نور کا دھارا رسول ہیں