اردوئے معلیٰ

رات کٹتی ہے مگر تارِ تنفس ہو کر

اور تو خوابِ سحر ہے سو تجھے کیا دیکھیں

 

ایک اک کر کے سبھی خواب بکھرتے جائیں

اور ہم دور کھڑے ہو کے تماشہ دیکھیں

 

تیرے حصے میں خیانت نہیں کرنی آئی

ہم اگر خواب بھی دیکھیں تو وہ آدھا دیکھیں

 

کانچ ٹھہرے تو ترا عکس ہی صیقل کر لیں

آئینہ ہو کے تجھے خود میں سنورتا دیکھیں

 

دور ہوتا چلا جاتا ہے سفینہ اور ہم

ٹکٹکی باندھ کے ساحل کو سمٹتا دیکھیں

 

رقص جاری ہے مگر خوف بھی لاحق ہے کہ کب

دل کے مجذوب کو تھک ہار کے گرتا دیکھیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات