اردوئے معلیٰ

رات کے ڈوبتے تاروں نے یہ بتلایا مجھے

رات کتنی ہی بڑی رات ہو ، ٹل جاتی ہے

گر کوئی چاہے تو زنجیرِ درازِ ظلمت

نورِ خورشید کی شمشیر میں ڈھل جاتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات