اردوئے معلیٰ

راستہ خواب کا جب نیند کو پتھریلا پڑے

راستہ خواب کا جب نیند کو پتھریلا پڑے

زہر آنکھوں میں سیہ رات کا زہریلا پڑے

 

تو سمجھ جانا بچھڑنے کا سمے آ پہنچا

ہاتھ جب تیری کلائی پہ مرا ڈھیلا پڑے

 

حسن ِ سادہ مری خواہش ہے سنورتے ہوئے بھی

آئنہ ٹوٹے ترا عکس نہ چمکیلا پڑے

 

کچھ نہیں پھول تو دوچار نکل آئیں گے

خشک مٹی پہ اگر پیر ترا گیلا پڑے

 

عشق آسان سفر ہے تو سفر کیا کرنا

دشت آئے مرے رستے میں کوئی ٹیلہ پڑے

 

تم اسے دھوپ سی پوشاک کا تحٖفہ دو گے ؟

جو بدن چھاؤں پہنتے ہوئے بھی پیلا پڑے

 

ضبط کو توڑیے سر پھوڑیے ،، حیدر صاحب

موسم ہجر میں بھی خوں نہ اگر نیلا پڑے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ