راستہ دکھاتا ہوں نعت کے اجالے سے

 

راستہ دکھاتا ہوں نعت کے اجالے سے

میں بھی جانا جاتا ہوں نعت کے حوالے سے

 

جب خیال آتا ہے صاحبِ دو عالم کا

روح میں اترتے ہیں بے بہا اجالے سے

 

کب قرار پائے گا میرا دل مدینے کا

چبھ رہے ہیں سینے میں فرقتوں کے بھالے سے

 

ریگِ دل میں پھوٹا ہے آب ہجرِ طیبہ کا

سیر ہو کے پیتا ہوں درد کے پیالے سے

 

جب اتاری جاتی ہے نعت میرے سینے پر

سرفراز ہوتا ہوں روشنی کے ہالے سے

 

ٹھوکروں میں رکھتا ہے تاج و تختِ سلطانی

جس کو بھیک ملتی ہے کالی کملی والے سے

 

آپ کو مواجہ پر حالِ دل سنانا تھا

فرطِ عشق سے لب پر پڑ گئے ہیں تالے سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ