اردوئے معلیٰ

رافت وعالم کی چادر ہیں رسولِ عربی

 

رافت وعالم کی چادر ہیں رسولِ عربی

حسنِ اخلاق کے پیکر ہیں رسولِ عربی

 

خاص خطے کے نہیں، خاص قبیلے کے نہیں

دونوں عالم کے پیمبر ہیں رسولِ عربی

 

شاہِ کونین، مگر پیٹ پر پتھر باندھے

ایسے رتبے کے تونگر ہیں رسولِ عربی

 

کشتیِ عمر میری کیوں نہ ہو محتاجِ کرم

بحرِ رحمت کے شناور ہیں رسولِ عربی

 

ذاتِ اقدس سے شبِ تار بھی مہتاب ہوئی

نورِ یزداں سے منّور ہیں رسولِ عربی

 

تشنگی میری بھی بجھ جائے گی روزِ محشر

قاسم وساقیِ کوثر ہیں رسولِ عربی

 

گمرہی ہوگی کسی اور کی قسمت میں جمیل

مرے ہادی، مرے رہبر ہیں رسولِ عربی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ