اردوئے معلیٰ

راہ چلیے تو یہاں دیر و حرم اتنے ہیں

کس کو پوجیں کہ خدا ساز صنم اتنے ہیں

 

اب کوئی اُٹھے بہ اندازِ دگر تیشہ بدست

کاٹے کٹتے ہیں نہیں کوہِ الم اتنے ہیں

 

تازہ احسانِ ستم ، طُرفہ عنایت ہے تری

ورنہ ہونے کو ترے لطف و کرم اتنے ہیں

 

یہ بھی کیا کم ہے کہ جینے کی طرح جیتا ہوں

ورنہ مرنے کے لیے زیست کے غم اتنے ہیں

 

دیکھیے کس سے ہو تفسیرِ غمِ زیست شررؔ

یوں تو ہونے کو یہاں اہلِ قلم اتنے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات