اردوئے معلیٰ

ربِّ کریم اب مجھے مدح کا کچھ ہنر بھی دے

ربِّ کریم اب مجھے مدح کا کچھ ہنر بھی دے

دامنِ حمد ونعت کو تازہ گلوں سے بھر بھی دے

 

سوز و گداز سے تہی حرفِ ثنا کبھی نہ ہو

فکر و عمل کے شہر کو رونقِ بام و در بھی دے

 

نعت لکھوں تو قلب و جاں نور سے جگمگا اُٹھیں

حمد کے لفظ لفظ کو جذب و اثر سے بھر بھی دے

 

ہجر میں جب تڑپ کے دل شہرِ نبی کا نام لے

دیدۂ شوقِ دید کو اپنے نبی کا در بھی دے

 

حرف خذف ہے، تو اسے گوہرِ تابدار کر

کاسۂ عشقِ شاہ کو سکۂ معتبر بھی دے

 

حرفِ سپاس دل میں ہو لب پہ مرے سلام ہو

پیشِ حضور جاسکوں اب مجھے بال و پر بھی دے

 

ایسی سعادتیں ملیں اُمتِ مصطفی کو پھر

دیں کا جمال دہر میں اب تو یہ عام کر بھی دے

 

دیکھ سکے عزیزؔ بھی روئے رسولِ ہاشمی

ربِّ کریم! دیدۂ خواب کو وہ نظر بھی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ