اردوئے معلیٰ

Search

رب کی عظیم ذات کا مظہر حضور ہیں

اللہ نور، نور کا پیکر حضور ہیں

 

پاتی ہے جن کے در سے خدائی کرم سدا

ایسی سخا کا ایک سمندر حضور ہیں

 

کچھ خوفِ حشر مجھ کو نہ لاحق ہوا کبھی

میں جانتا ہوں شافعِ محشر حضور ہیں

 

ثابت ہوا خدا کے فرامین سے یہی

بے عیب ذاتِ باری کا مظہر حضور ہیں

 

منزل ملے گی مجھ کو یقیں ہے اسی لیے

بے فکر میں رہوں گا کہ رہبر حضور ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ