اردوئے معلیٰ

رحمتوں سے بھری اک نظر کے غلام

منفرد سب میں ہیں اُن کے در کے غلام

 

نسبتِ مصطفٰی ہیں علی کے غلام

ہیں وہ صدیق و عثماں، عمر کے غلام

 

گر بلاوہ مدینے سے سرکار ہو

جھومتے جائیں گے اُس نگر کے غلام

 

بے کراں رحمتوں کا سمندر ہیں وہ

فیض پاتے ہیں سب بحر و بر کے غلام

 

حشر میں حوضِ کوثر سے آئی ندا

منتظر ہوں گے سب اس خبر کے غلام

 

یا نبی ہو عطا حاضری اس طرح

لائیں جھولی درودوں کی بھر کے غلام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات