رحمتوں کے اشارے حضور آپ ہیں

رحمتوں کے اشارے حضور آپ ہیں

بحرِ حق کے کنارے حضور آپ ہیں

 

آپ کی زندگی مشعلِ راہ ہے

بندگی کے نظارے حضور آپ ہیں

 

آپ سا کوئی دیکھا نہیں ہے حسیں

خُلق میں سب سے پیارے حضور آپ ہیں

 

حضرتِ آمنہ کے ہیں نورِ نظر

سعدیہؓ کے دُلارے حضور آپ ہیں

 

سرتاپا معجزہ ، معجزہ ہر ادا

رب نے ایسے سنوارے حضور آپ ہیں

 

کیوں کسی کو پکاریں مدد کے لیے

جبکہ سب کے سہارے حضور آپ ہیں

 

آپ کی جو رضاؔ ہے وہ رب کی رضا

بخششوں کے نظارے حضور آپ ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گذشتہ رات یادِ شاہ دل میں سو بسو رہی
چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی
سجا ہے لالہ زار آج نعت کا
مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
ملی ہے محبت حضورؐ آپؐ کی
نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے
درِ مصطفیٰؐ کا گدا ہوں میں، درِ مصطفیٰؐ پہ صدا کروں
کیا شان شہنشاہ کونین نے پائی ہے
مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ

اشتہارات