رحمتِ باری برستی ہے دیارِ نور میں

رحمتِ باری برستی ہے دیارِ نور میں

نعمتِ کونین بٹتی ہے دیارِ نور میں

 

آؤ قسمت آزمائیں بے سہارو! آئو سب

بگڑی قسمت بھی سنورتی ہے دیارِ نور میں

 

آپ کی زُلفوں کی خوشبو ہے فضا میں آج بھی

چارسو خوشبو مَہکتی ہے دیارِ نور میں

 

ہر گھڑی رب العلیٰ کی شان بھی تو دیکھیے

راحتِ قلبی اُترتی ہے دیارِ نور میں

 

ساری دُنیا برکتوں کی دم بہ دم برسات میں

بِھیگ جانے کو مچلتی ہے دیارِ نور میں

 

سرورِ کون و مکاں کے نامِ نامی کی رضاؔ

ہر طرف خیرات بٹتی ہے دیارِ نور میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سرکارؐ کے کرم سے یہ فیضانِ نعت ہے
میرے دل میں ہے یادِ محمدؐ میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ
کرم کی چادر مِرے پیمبر
درِ نبی پہ مقدر جگائے جاتے ہیں
انداز کریمی کا نِرالا نہیں گیا
رسولِ محترم ختم‌النبیّین
لبوں پہ جب بھی درود و سلام آتا ہے
یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
آپ کی یادوں سے جب میری شناسائی ہوئی
کس کا جمال ناز ہے جلوہ نما یہ سو بسو