اردوئے معلیٰ

Search

رحیم و راحم رحماں رُحَیَّم و ارحم

عظیم و صاحبِ عُظْم و مُعَظّم و اعظم

 

ملیک و مالک و مختارِ ملکِ ارض و سماں

تری ثنا میں ہیں مصروف عقل و لوح و قلم

 

نہیں ہے تیرے سوا کوئی مالک و مختار

نہیں ہے تیرے سوا کوئی افضل و اکرم

 

میں ایک حلقہ بگوشِ محمد عربی

تری جناب میں آیا ہوں لے کے عرضِ اَلم

 

بَدِیْعِ حرف و نوا، بخش علمِ لفظ و صدا

کہ تو علیم و معلم بھی ہے تو ہی اَعْلَم

 

نہیں ہیں حرف بھی کالائے نطق میں میری

میں ملتمس تو ہوں، اُسلوبِ عرض نامحرم

 

میں اپنی ملتِ بے مایہ کے لیے رنجور

میں اپنی سوئی ہوئی قوم کے لیے بیدم

 

یہ قوم جس کو میسر ہوا عروج کبھی

اُکھڑ چکے ہیں زمیں سے بھی آج اس کے قدم

 

چراغِ علم بجھے، ظلمتوں کا دور آیا

ضیائے سیرت و کردار ہو گئی مدہم

 

محال ہو گئی تمیزِ خیر و شر یکسر

ہوا ہے خیر میں شر آ کے اس طرح مدغم

 

متاعِ علم و ہنر چھن گئی مسلماں سے

دلوں پہ جہل کی ظلمت جما رہی ہے قدم

 

ہوا ہے تیرگیوں کو یہ حوصلہ یارب!

کہ روشنی سے بھی اونچا ہے آج ان کا علم

 

اُخُوَّتوں کی فضا ختم ہو چکی مولا!

محبتوں کا ہوا سرنگوں یہاں پرچم

 

ہر اِک قدم پہ ہے افعی گزیدگی کا خطر

چھپے ہوئے ہیں ہر اک آستین میں اَرقَم

 

نظر بھی خیر کے دیدار کو ترستی ہے

ہوئی ہے صحبتِ اخیار آج یوں برہم

 

ہوئی ہے خواب کے مانند جرأتِ مسلم

شجاعتوں کا کیا جا رہا ہے اب ماتم

 

مجاہدین بھی صیدِ ہوس ہوئے اب تو

سپاہیوں میں بھی باقی نہیں رہا دم خم

 

بہادری تو فقط تذکروں میں ملتی ہے

ہزار گُرگ ہیں لیکن کوئی نہیں ضیغم

 

ضعیف تجھ کو صدا دے کے ہو گئے خاموش

بڑھا ہوا ہے مگر ظالموں کا ظلم و ستم

 

ہمارے غم میں شفق کا بدن ہے خون آلود

ہمارے حال پہ ہر شب ہے گریۂ شبنم

 

چراغِ مصطفوی سے تھا اِک جہاں روشن

اسی چراغ سے روشن ہو آج بھی عالم

 

کبھی تو عدل کا ڈنکا بجے زمانے میں

کبھی تو چین کے نغمات گائیں اہلِ نغم

 

وہ خوف دل سے مٹا! رَبِّ ذوالجلال کہ جو

عمل کی راہ سے روکے ہوئے ہے میرے قدم

 

طبیبِ عصر ہو عیسیٰ نفس کوئی ہم میں

جو کر سکے تنِ ملت سے دور زخم کا سم

 

ضعیف قوم کے چہرے کی جھریاں بھی مٹیں

عطا ہو اس کو شباب اور شباب کا دَم خم

 

کمال ایسا کہ جس کو کبھی زَوال نہ ہو

کمال ایسا کہ جو تا ابد رہے محکم

 

عطا ہو ملتِ بے مایہ کو زمانے میں

اِلَہِٰ ارض و سماوات، سرورِیٔ اُمم

 

غلامِ بارگہِ سرورِ دو عالم بھی

رکھیں زمینِ مہ و مشتری پہ جا کے قدم

 

یہ راز ملتِ خُفتہ پہ اب تو کھل جائے

وجود اس کا فقط دینِ حق سے ہے محکم

 

کبھی تو چہرۂ مزدور پر بھی سرخی ہو

کبھی ضعیف کا دل بھی تو ہو سکے خُرَّم

 

کبھی تو علم کی حرمت بحال ہو یارَبّ!

کبھی تو قوم اُتارے گلے سے طوقِ دِرَم

 

کبھی تو سکّۂ سیرت بھی معتبر ٹھہرے

کبھی تو زُہد کو حاصل ہو اِک مقام اہم

 

بہت طویل ہے فہرستِ آرزو یارب

کوئی کرے بھی تو کس طرح سے سپردِ قلم

 

مرا یہ حال کہ اُلجھی ہوئی ہے فکر مری

زبان بھی مری عاجز، بیان بھی مبہم

 

سَلاحِ نطق و نوا ہو چکے ہیں زنگ آلود

سپاہِ لفظ و معانی کو دیکھ کر بیدم

 

مری نوا تو ہے شہرِ نوا میں نامانوس

مرا پیام سراسر پیامِ نامحرم

 

عزیزؔ کو بھی ودیعت ہو دستگاہِ علوم

فصاحتوں سے رہیں آشنا زبان و قلم

 

عطا ہو دولتِ ایمان و آگہی بھی اسے

عمل درست ہو اس کا یقین ہو محکم

 

قبولیت کا شرف ہو عطا دعاؤں کو

بحقِّ سرورِ ہادی و رہبرِ عالم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ