رخصتی

(بیٹی)

نورِ عینی لختِ دل پاکیزہ سیرت نیک نام

بنتِ خوش اختر مری ہوتا ہوں تجھ سے ہم کلام

عقد تیرا کر دیا بر سنتِ خیر الانام

آج تو ہم سے جدا ہو جائے گی تا وقتِ شام

 

دل میں اک طوفانِ غم ہے روح میں اک اضطراب

ہے طبیعت میں تکدر بے نہایت بے حساب

آگ سی سینے میں ہے اک ہے جگر میں التہاب

اک تری فرقت سے اف برپا ہیں کتنے انقلاب

 

ہے تری دنیائے دل میں ہر طرف غم کا غبار

از وفورِ سیلِ غم آنکھیں تری ہیں اشک بار

چھٹ رہا ہے گھر تری بے چینیوں کا کیا شمار

لیکن اے بیٹی سنبھل خود کو نہ کر یوں دلفگار

 

سن توجہ سے ذرا اے دخترِ شیریں دہن

باپ کا گھر بیٹیوں کے حق میں ہے مثلِ چمن

جب جوانی کی بہار آ جائے اے گل پیرہن

چھوڑنا پڑتا ہے یہ صحنِ چمن بن کر دلہن

 

میں خبر دیتا ہوں تجھ کو دخترِ غمگیں مری

تیرگی غم کے پس منظر میں ہے اک روشنی

ساغرِ تلخِ الم میں ہے نہاں کیفِ خوشی

ختم ہے پامال منزل آ گئی منزل نئی

 

میہماں تھی تو یہاں اب تجھ کو تیرا گھر ملا

اب قدم باہر نہ نکلیں جس سے ایسا در ملا

ایک پاکیزہ گھرانہ نیک دل شوہر ملا

شکر واجب تجھ پہ ہے سب کچھ تجھے بہتر ملا

 

تو کہ تھی محروم لے ماں کی محبت مل گئی

اپنے والد کی طرح ایک اور شفقت مل گئی

پانچ بھائی اور دو بہنوں کی الفت مل گئی

رحمتِ حق سے تجھے ہر شے بکثرت مل گئی

 

ہے خسر تیرا سبحان اللہ غلامِ آں رسول

ایک سادہ دل مسلماں آدمی اک با اصول

ہو گئیں میری دعائیں سب ترے حق میں قبول

کیوں نصیبِ دشمناں ہوتی ہے تو اتنی ملول

 

رخصتی کو جمع ہیں کیا اقربا کیا دوسرے

جمگھٹا مردوں کا بھی ہے عورتوں کے بھی پرے

ماں تری لاؤں کہاں سے جو تجھے رخصت کرے

اف پرانے زخم دل کے ہو گئے اس دم ہرے

 

رخصتی کا مرحلہ لاریب ہے دشوار و سخت

آ کہ سینہ سے لگا لوں اے مری فرخندہ بخت

دیر اب کیوں کر رہی ہے لے سنبھال اپنا یہ رخت

ہو مبارک تجھ کو بیٹی اپنے گھر کا تاج و تخت

 

اے مرے نوشاہِ خوش خو اے مرے بیٹے رفیق

آ کہ پیشانی پہ بوسہ دوں بہ جذباتِ عمیق

ہے قسم اس ذات کی مجھ کو جو ہے بے حد شفیق

ہم سفر تو نے جو پایا ہے ہنر مند و خلیق

 

ہے دعا گو اب نظرؔ دونوں سدا شاداں رہو

غم نہ بھٹکے پاس کوئی خوش رہو خنداں رہو

دہر کی نیرنگیوں میں دین کے خواہاں رہو

با مراد و کامراں دونوں بہ ہر عنواں رہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ