رسول عالمیاں، وہ حبیب رب جلیل

رسول عالمیاں، وہ حبیب رب جلیل

سکون قلب پریشاں ہے جس کا ذکر جمیل

 

خدا کا پاک نبی ، وہ محمد عربی

کمال خلق و محبت کا نکتہ تکمیل

 

حبیب رب تعالیٰ ، وہ سید والا

ہے جس کا رتبہ اعلیٰ ورائے عقل و دلیل

 

وہی معلم اعظم کہ جس سے تا بہ ابد

زمانہ کرتا رہے گا علوم کی تحصیل

 

وہ محتشم، وہ معظم، پیمبر ملہم

خدا کے بعد نہیں جس کا ثانی تفضیل

 

نوید عیسی مریم ؑ ، دعائے ابراہیمؑ

وہ نازش بنی ہاشم، وہ فخر اسماعیل

 

صداقت بشری کا وہ مطلع تاباں

رسالت ابدی کا وہ مقطع تنزیل

 

تجلی جبل طور اُس کا پرتو نور

فروغ وادی فاراں ہے اُس کا نقش جمیل

 

وہ ایک امی لقب ، سرور عرب، جس کا

ازل سے تا بہ ابد کوئی ہو سکا نہ مثیل

 

وہ ایک راہبر منزل یقیں، جس نے

جنودِ بے خبراں کو دیا پیام رحیل

 

وہ جس کے فیض سے ظلمت گہ جہالت میں

نظر فروز ہے فہم و شعور کی قندیل

 

وہی ہے عاجز و درماندہ کا انیس و شفیق

وہی ہے بیکس و نادار کا وکیل و کفیل

 

ہر ایک روز ہے الطاف بے حساب کا روز

کہ اُس کے عہد کرم میں نہیں کوئی تعطیل

 

بیاں میں اُس کے طراوت ہے صورت شبنم

زباں میں اُس کی حلاوت ہے مثل شہد و نخیل

 

رفیق اُس کے دو عالم میں سربلند و عظیم

رقیب اُس کے دو عالم میں روسیاہ و ذلیل

 

اُسی سے زمزمہ جاں کو سوز و ساز ملا

ہے ختم جس کی زباں پر تکلم و ترتیل

 

دیارِ بعثت احمد ہے مہبط انوار

ہوا پناہ گزیں جس میں کاروان خلیل

 

نفس نفس ہے جمال حضور سے مخمور

کنارِ راوی و جہلم سے تا بہ ساحل نیل

 

ہزار گردِ تشکک سے ہو فضا آلود

اُسی کی ذات رہے میرا محورِ تخییل

 

اُسی کا ذکر مری کائناتِ فکر و خیال

وگرنہ کیا مرا اجمال، کیا مری تفصیل

 

میں پھر بھی اس کے محاسن بیان کر نہ سکوں

مثالِ خضر اگر مل بھی جائے عمر طویل

 

شہنشہ کرم آثار کے سبب خالد

شب سیاہ میں روشن ہو نور کی قندیل

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ