اردوئے معلیٰ

رسولِ اکرم کو جب سے پہنچا سلام میرا

سنور گیا ہے، نکھر گیا ہے، کلام میرا

 

یقین ہے روزِ حشر بھی آ ہی جائے گا اب

مدیح گویانِ شاہِ طیبہ میں نام میرا

 

نگاہِ لطف و کرم پڑی جب بھی شاہِ دیں کی

سدھر ہی جائے گا زندگی کا نظام میرا

 

حروفِ مدحت کی تازگی سے یہ لگ رہا ہے

کہ لوحِ ایَّام پر رہے کا دوام میرا

 

حضور ! اک جذبۂ وفا ہے مرا اثاثہ

دعا ہے جذبہ یہ کاش ہو جائے عام میرا

 

عمل سے، حرف و نوا سے، احساسِ پُر ضیاء سے

بہر وسیلہ ہو نعت لکھنا ہی کام میرا

 

ضیائے مدحِ نبی جو پائی ہے آج میں نے

قلم سمیـٹے یہ روشنی صبح و شام میرا

 

عزیزؔ اظہارِ حُبِّ آقا میں ہو صداقت

دعا ہے مظہر ہو صدق کا سب کلام میرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات