رسولِ اکرم ﷺ کو جب سے پہنچا سلام میرا

رسولِ اکرم ﷺ کو جب سے پہنچا سلام میرا

سنور گیا ہے، نکھر گیا ہے، کلام میرا

 

یقین ہے روزِ حشر بھی آ ہی جائے گا اب

مدیح گویانِ شاہِ طیبہ ﷺ میں نام میرا

 

نگاہِ لطف و کرم پڑی جب بھی شاہِ دیں ﷺ کی

سدھر ہی جائے گا زندگی کا نظام میرا

 

حروفِ مدحت کی تازگی سے یہ لگ رہا ہے

کہ لوحِ ایَّام پر رہے کا دوام میرا

 

حضور ﷺ! اک جذبۂ وفا ہے مرا اثاثہ

دعا ہے جذبہ یہ کاش ہو جائے عام میرا

 

عمل سے، حرف و نوا سے، احساسِ پُر ضیاء سے

بہر وسیلہ ہو نعت لکھنا ہی کام میرا

 

ضیائے مدحِ نبی ﷺ جو پائی ہے آج میں نے

قلم سمیـٹے یہ روشنی صبح و شام میرا

 

عزیزؔ اظہارِ حُبِّ آقا ﷺ میں ہو صداقت

دعا ہے مظہر ہو صدق کا سب کلام میرا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب تک کہ جان جان میں اور دم میں دم رہے
گذشتہ رات یادِ شاہ دل میں سو بسو رہی
چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی
سجا ہے لالہ زار آج نعت کا
مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
ملی ہے محبت حضورؐ آپؐ کی
نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے
درِ مصطفیٰؐ کا گدا ہوں میں، درِ مصطفیٰؐ پہ صدا کروں
کیا شان شہنشاہ کونین ﷺ نے پائی ہے