اردوئے معلیٰ

رسول حق سبب خلقت دوعالم تھے

جہاں ظلم میں اک رحمت مجسم تھے

 

ہر آدمی کے لیے زخم دل کا مرحم تھے

کرم کا بحر تھے لطف و عطا کا زم زم تھے

 

ستمگروں کو تحمل کی حد دکھاتے تھے

وہ ظلم کرتے تھے ان پر، یہ مسکراتے تھے

 

ہوئے تھے ظلم میں کچھ اہل ظلم یوں بے باک

طرح طرح سے ستاتے تھے آپ کو سفاک

 

کبھی بچھاتے تھے رستے میں خار وحشت ناک

کبھی گراتے تھے آلائش و خس و خاشاک

 

یہ زیر کرتے تھے یوں خلق سے شقاوت کو

وہ ظلم کرتے تھے جاتے تھے یہ عیادت کو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات