اردوئے معلیٰ

رسول پاک کے جتنے بھی ماہ پارے ہیں

رسول پاک کے جتنے بھی ماہ پارے ہیں

قسم خدا کی وہ سب جان و دل ہمارے ہیں

 

درِ رسول کے ذروں کو دیکھ کر یہ لگا

یہ ذرے ذرے نہیں آسماں کے تارے ہیں

 

کچھ اور اُن کے سوا میرے پاس ہے ہی نہیں

نبی کی یاد میں دن رات جو گزارے ہیں

 

جمال و حسن کا پیکر ہے شہر شاہِ امم

جدھر بھی دیکھیے ہنستے ہوئے نظارے ہیں

 

کرید راکھ ذرا اے ہوائے عشق نبی

دبے ہوئے ابھی ایمان کے شرارے ہیں

 

جواب تو نہیں یاورؔ یہ پھول یہ خوشبو

مگر جمالِ شہِ دیں کے استعارے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ